Today's Headlines

1.فواد چوہری:-

     پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہری نے سدر عارف علوی کو خط لکھ کر نگران حکومتوں کا معاملہ عدالت عظمی کو بھجوانے کی استدا کر دی ہے خط میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ غیر ائینی اور غیر قانونی اقدامات کے باعث انتخابات کے لیے طے شدہ مدت گزر گئی دونوں نگراہ حکومتیں اپنی ائینی مدت مکمل کر چکی ہیں ائین نگران حکومتوں کو مدت میں توسیح کی اجازت نہیں دیتا فواد چوہری کے اس مطالبے سے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صدر مملکت عارف علوی پنجاب اور کے پی کے اسمبلی میں نگران حکومتوں کے بارے میں سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجیں گے یا نہیں بھیجیں گے.

2.ارٹیکل 48:-

     ائین سے رہنمائی لی جائے تو ائین کا ارٹیکل 48 ایک صدر کو وزیراعظم یا کابینہ کی ایڈوائس لینے کا کہتا ہے مگر ساتھ ہی 48 دو کے تحت صدر اگر ضروری سمجھیں تو کسی ائینی معاملے میں اپنے ثوابدی اختیارات بھی استعمال کر سکتے ہیں ان ارٹیکل سے بڑھ کر ارٹیکل 186 کے تحت صدر کسی بھی کسی بھی ائینی معاملے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیج سکتے ہیں اس حوالے سے اگر صدر علوی کی ہی مثالوں کو دیکھیں تو انہوں نے دو اہم ائینی معاملات کی تشریح کے لیے دو ریفرنسز سپریم کورٹ کو بھیجے صدر علوی نے مارچ 2022 میں سپریم کورٹ کو ارٹیکل 63 اے کی تشریح اور اس سے پہلے دسمبر 2020 میں سینٹ انتخابات میں اعلانیہ یا خفیہ ووٹنگ کے مسئلے پر سپریم کورٹ کو ریفرنسز بھیجے تھے.
       مگر یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ صدر عارف علوی نے یہ دونوں ریفرنسز سپریم کورٹ کافی پہلے کر کو اس وقت بھیجے جب عمران خان ملک کے وزیراعظم تھے اب صورتحال بالکل مختلف ہے وفاقی حکومت اور عسکری قیادت ہی نہیں بدلی بلکہ ہواؤں کا رخ بھی بدل چکا ہے اسی معاملے پر پہلا سوال پینل کے سامنے رکھیں گے.

3.شہزاد چوہری حسن نثار:-

         شہزاد چوہری حسن نثار افسار عالم اور عید سازانہ پروگرام کا پہلا سوال اپ سب کے لیے اس طرح سے صدر سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجے پاکستان پاکستان تحریک انصاف کا مطالبہ کیمگران صوبائی حکومتوں کا متقبل خطرے میں ا جائے گا حسن نثار صاحب حالات بدل گئے ہیں حکومت بدل گئی ہے اسٹیبلشمنٹ بدل گئی ہواؤں کا رخ بدل گیا وزیراعظم بھی وہ نہیں کیا صدر علوی صاحب وہی کچھ کریں گے جو پہلے کر چکے ریفرنس بھیجیں گے کہ ائینی تشریح کی جائے.

4.نگران حکومتوں:-

    اس معاملے کی نگران حکومتوں کو لے کر چاہیے اس ملک کی تاریخ میں جس لیول کی جس قسم کی ڈیٹائی بے حیائی اور دھرمی دیکھی جا رہی ہے صبح لمبا چوڑا عقل کی بات نہیں ہے موشگافیاں کرنی ہیں جلیبیاں بننی ہیں تو لوگ موٹی جھٹکی جتنی بات ہے یار یہ کوئی صدر کر لے گا نہیں کر لے گا اور عجیب و غریب سوال اٹھنا ہے.

5.مستقبل پہ سوالیہ نشان:-

      اس ملک میں ملک کے مستقبل پہ سوالیہ نشان ہے اسے اس کی اس میں ایک حوالہ صاحب نے جو دیا ہے وہ بہت اونچی ہوئی بات ہے اخلاقی طور پہ برباد دیوالیہ اقتصادی طور پر برباد دیوالیہ کون سی کل سیدھی ہے کون سا ارگن کام کر رہا ہے.

6.صوبائی حکومتوں:-

        سٹیٹ کا ٹھیک اپ صوبائی حکومتوں کے مستقبل پارے فکر مند ہو تو یقین مانیں ان سب کا مستقبل خطرے میں ہے نتیجہ ا جائے گا چند ہفتوں کی مار ہے اس سے اگے نہیں حکومت جس درجے کی جس لیول کی بے حیائی اور ڈھٹائی اور بے شرمی انٹرپرٹیشن ہر ہر قاتل کے پاس جواز ہوتا ہے ہر ریفرنس کے پاس جواب ہوتا ہے یہ کیا بات ہے اور سیدھا سیدھا طریقے سے جانے دو اپ کو جلیبیاں تلنے کی پڑی ہوئی ہے ادروائز نہیں ای اس کا کیا ہونا چاہیے کنفیوژن پھیلا رہے ہیں چپکے ہوئے ہیں مگر اگر صدر بنا ایڈوائس کا بات ہو سکتی ہے. 

7.ملک کی اپ سکیورٹی:-

      اپ کے پاس نر وسائل نہیں ہیں ملک کی اپ سکیورٹی نہیں ہے پیسہ نہیں ہے الیکشن اوئے بھائی ووٹ جلائی ہے بچہ بچہ جانتا اور تھوک رہا ہے اس بار زیادہ سب کچھ ہے وہ بینک ختم ہو چکا ہے ختم کر اچھا اس اسی بات کو اگر ایسے کہوں کہ حکومت کی ایڈوائس ہی نہ ہو حسن صاحب اگر ریفرنس بھجوانے کے لیے حکومت ہی ایڈوائس نہیں کرتی پیچھے حکومت ہی نہیں ہے صرف کوئی نیا ائینی تنازہ بھی تو کھڑا ہو سکتا ہے پہلے بھی تو ائینی تنازعات ہمیں یہاں تک لے ائے بالکل ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے ہونا چاہیے اس کو کنکلوڈ ہونا چاہیے اج تو لگ رہے ہیں اپ ہی سب کچھ لپیٹ میں ہیں کہ چکر میں ہیں نہیں میں کہتا ہوںاو یار بھزندگی کا خلاصہ بیان کیا تھا میرا کوئی ذاتی پرابلم نہیں ہے ہم سب کا کوئی نہیں ہے لیکن یہ ملک ہے تماشہ ہے یہ منوات چل رہا ہے کوئی اور ٹنکی چل رہی ہے کچھ ہوئے کاٹہ ہے کیا ہے یہ سیدھے سیدھے الیکشن کراؤ جاؤ ٹھیک جاؤ واپس ا جاؤ اور نہیں ہے اس لیے کچھ بھی نہیں ہے نہ ضمیر ہے نہ عزت ہے نہ عزت نفس ہے نہ لاجک ہے نہ دلیل ہے کیونکہ وہ نہیں ہے میں دیکھتا ہوں کب تک چپکے رہتے ہیں اور اس کا کام کیا ہوتا ہے چپ کے رہنے دو اور بھی لوگوں نے کوشش کی بٹ جب وقت مقرر ا جائے تو پھر فنشٹی ہوتا ہے کوئی چپک نہیں سکتا یہ تو اپ درست کہہ رہے ہیں اصف صاحب اپ کی جانب اؤں گی جی ابصار صاحب اپ کی جانب اؤں گی ایک عدلیہ کے اندر تقسیم ہے جو بڑی وضاحت سے ہم سب کے سامنے ہے گزشتہ کچھ عرصے کے اندر کیا صدر اس عدلیہ کی تقسیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجیں گے اور پی ٹی ائی کو اس کا فائدہ ہوگا.

8.صدر پاکستان:-

      بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ اگر صدر پاکستان جو ہیڈ اف سٹیٹ ہے وہ کسی بھی ادارے کے اندر تقسیم کا ناجائز فائدہ اٹھا کے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں تو اس سے بڑی اس ملک کی بدقسمتی کوئی نہیں ہے میں اپ کو ابھی مجھے نا یاد ا رہا تھا طاق حسین حالی نے شاید کہا ہے.
            " جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امد سے پہلے عرب معاشرے کا حال تھا نا وہ کہیں گھوڑا اگے بڑھانے پہ جھگڑا کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا اپ کے دلچسپ واقعہ سناؤں سچا یہ اسلام اباد جو شہر بنا ہے.

9.جنرل ایوب خان:-

         یہ جنرل ایوب خان اور جنرل یحیی خان نے بنایا تھا اور اس میں جہاں جو اسلام اباد کے اندر ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جہاں جو سب سے اونچا اونچی جگہ ہے نا وہاں ایوان صدر کے لیے جگہ رکھی گئی اور اگر اپ ایوان صدر میں کھڑے ہوں اور اسلام اباد کی طرف دیکھیں تو ایوان صدر کے پاؤں میں دائیں طرف ایگزیکٹو کی بلڈنگز ہیں فیڈرل سیکرٹیریٹ سے کہتے ہیں اور افغان صدر کے پاؤں میں لیفٹ سائیڈ پہ پارلیمنٹ کی بلڈنگ ہے تو یہ صدر کو سب سے اونچا اس وقت صدارتی نظام تھا تو صدر سب سے اوپر ہونا چاہیے تھا ان کا خیال تھا تو پارلیمنٹ کی بغل میں لیفٹ سائیڈ پہ سپریم کورٹ کی بلڈنگ ہے.

10.سپریم کورٹ کی بلڈنگ:-

            اب سپریم کورٹ کی بلڈنگ بعد میں بنی ہے سب سے اور 1993 میں یہاں پہ اس بلڈنگ میں سپریم کورٹ شفٹ ہوئی لیکن اس کا شفٹ ہونا ڈیلے ہوتا جا رہا تھا جسٹس افضل اللہ چیف جسٹس تھے انگریز کی وجہ یہ تھی کہ ججز حضرات یہ چاہتے تھے کہ جو سپریم کورٹ کی بلڈنگ ہے اس کے اونچائی پارلیمنٹ کی بلڈنگ سے اونچی ہو جائے اور وہ کیونکہ پلاٹ ذرا نیچے جگہ پہ تھا پارلیمنٹ کی بلڈنگ جو ہے وہ ذرا اونچی جگہ پہ ہے اپ سوچیں ہماری لڑائیوں کا حال سوچیں اپ وہ بلڈنگ میں شفٹ نہیں ہو رہے تھے پنڈی سے یہاں پہ سپریم کورٹ شپ نہیں ہو رہی تھی کہ جب تک سپریم کورٹ کی بلڈنگ اونچی نہیں ہو جائے گی پارلیمنٹ کی بلڈنگ سے تب تک ہم نے شفٹ ہوئے ہیں ہوں گے اس میں پھر ڈیزائن میں تھوڑی سی تبدیلی کر کے جو سامنے اپ نے دیکھا ہوگا محراب نظر ارہی ہے نا اس کو اونچا کیا گیا صرف اس کو اونچا کیا گیا کیونکہ باقی بلڈنگ تو نہیں ہو سکتی تاکہ وہ پارلیمنٹ کے اوپر ہو جائے عوان صدر سے اونچی وہ پھر بھی نہیں ہو سکی سپریم کورٹ کی بلڈنگ جہاں ہماری سوچ یہ ہو جہاں بڑے عہدوں پہ اس سوچ کے لوگ اگے بیٹھ جائیں وہاں قوم کہاں عوام کہاں ان کے مسائل کا یہ تو ذاتی لڑائیاں ہیں.

 11.ذاتی اناؤں کی جنگ:-

 ذاتی اناؤں کی جنگ ہے جس میں ہم پھنسے ہوئے ہیں اور جو کچھ ایک سال میں عدلیہ نے جو کچھ کیا ہے یہ سارا بران تو اس بات پہ متفق ہوں کہ یہ سارا بحران موجودہ سیاسی اور معاشی یہ عدلیہ کی طرف سے گڑا گیا ہے اور میری امید تھی کہ عمران خان صاحب ووٹ اف نو کانفیڈنس ہار کے اسمبلی میں بیٹھتے اب ان کی ایک شرط ہے مذاکرات کے لیے کہ ہمارے صف نا منظور کیے جائیں تو پہلے ہی نہ جاتے سر نہ دیتے اسمبلی میں بیٹھتے لیڈر جو اپوزیشن کا مطلب ہی مانگ رہے ہیں اپ مطالبہ کر رہے ہیں تو وہ ان کے پاس اٹومیٹکلی ہونا تھا اپ سوچیں کہ پچھلے سال یہ اپ جو ہم حکومت ہیں اگر انہیں مدت پوری کرنے دیتی ہے ساتھ ساتھ تو شاید اب تک یہ کہیں اور معاملہ جا چکے ہوتے ہیںیہ عربی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں اپ یہ بھی کر دیتے لیکن وہ پھر میں بات کروں گا تو پھر شاید ڈیپ لگ جائے کہ وہ کیوں ضروری تھا کس کے اپوائنٹمنٹ سے پہلے حکومت کا بدلہ جانا ضروری تھا کیونکہ عمران خان سے کس کو چیف لانا چاہ رہے تھے تو چھوڑیں اس بات پہ نہیں جاتے میں میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اخر نو کانفیڈنس ہو گیا جو ایک جمہوری اور ائینی یہ غلط کو چھوڑ دیں اپ قانونی تو تھا نا تو عمران خان صاحب کو سپورٹ نہیں اتے ہوئے بیٹھنا چاہیے تھا اور مقابلہ کرنا چاہیے تھا لیکن وہ سڑکوں پہ اگئے اور جوڈیشری ان کا ساتھ دیا کیوں ایسے کیوں ہوا تو یہ نگران حکومتیں اپ کو جاتی نظر اتی ہیں جی ایک اخری بات ایک اخری بات جو 14 مئی کو الیکشن ہونے ہیں نا کے پی کے تو ابھی نہیں اناؤنس ہوئے وہ ظاہر ہے اگر ہوئے بھی تو جون میں اناؤنس ہوں گے تو جو جولائی اور تین مہینے کی بات ہے جس میں جھگڑا ہے اکتوبر کی ڈیٹ دے دی ہے الیکشن کمیشن نے تو 60 دن تک پہلے دیں گے نا وہ کیمپین کے لیے تو 60 دن پہلے تین مہینے بیچ میں رہ جائیں گے اب یہ تین مہینے انا کی جنگ نہیں ہے.

Post a Comment

0 Comments