BREAKING NEWS ABOUT ELECTRICITY

BREAKING NEWS ABOUT ELECTRICITY 



1۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی:

    خدا گواہ ہے میں نے بل پر دستخط نہیں کیے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے افیشل سیکرٹ ایکٹ اور عالمی ایک ترمیمی بل منظور کرنے کی تردید کر دی اپنے ٹویٹ میں لکھا میں نے ان بلوں پر دستخط نہیں کیے ان قوانین سے متفق نہیں تھا عملے سے کہا بغیر دستخط بلوں کو مقررہ وقت پر واپس کر دیں کئی بار بلوں کی واپسی سے واپس جا چکے ہیں اج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا اللہ سب جانتا ہے اور یقین ہے کہ وہ مجھے معاف کر دے گا ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے ارمی ایکٹ ترمیمی بل دو اگست کو صدر کو بھیجا گیا صدر 10 دن میں بل پر دستخت نہ کریں تو بل خود ہی نوٹیفائی ہو جاتا ہے۔

2۔ نگران وزیر کا ٹویٹ:

     نگرا وزیر قانون کا صدر مملکت کے ٹویٹ پر رد عمل نگرا وزیر اطلاعت مرتضی سولنگی بولے صدر نے کہا کہ بل واپس بھیج دیے ہم کہتے ہیں نہیں بھیجے صدر کی منشا اور خواہش کیا ہے وہی بہتر جانتے ہیں اور افیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل کے قانون بننے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا گزٹ نوٹیفکیشن پر 18 اگست کی تاریخ درج ہے نوٹیفکیشن نے بتایا گیا ہے کہ صدر کی جانب سے بل کی توثیق ہو گئی ارمی ایک ترمیمی بل کے قانون بننے کا نوٹیفکیشن بھی جاری نگران وزیر قانون نے غلط تشریح کی بل ابھی قانون نہیں بنی بیرسٹر علی ظفر کہتے ہیں قانون کا دس دن میں نوٹیفائی ہونا دوسرے مرحلے کے بعد اتا ہے یہ بیل ائینی طور پر ابھی پہلے مرحلے میں ہی نہیں ائے تھے ابھی بل صرف پہلی بار صدر کے پاس ائے جو بغیر دستخط واپس ہوئے اس سرکہ پارلیمنٹ سے بل ائے اور دستخط نہ ہو تو یہ دوسرا مرحلہ ہوتا ہے سلمان اکرم راجہ نے کہا نگرا وزراء کی پریس کانفرنس سے طے ہو گیا ۔

    بل واپس نہیں بھیجے گئے اس سے یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ صدر نے بلوں کی منظوری دے دی پی ٹی ائی کا صدر کے ٹویٹ کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان قانونی ٹیم کے رکن شعیب شاہین نے کہا نگران حکومت نے اعتراف کیا صدر نے دستخت نہیں کیے تو کیسے بل ایکٹ بن گیا صدر سپریم کمانڈر ہے ٹویٹ سے واضح کر دیا بلز واپس بھیجے اس ایکٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں چیف جسٹس معاملے پر از خود نوٹس لیں نعیم پنچھوتا نے کہا بل پر صدر کے جالی درسخت کیے گئے اس کی کوئی حیثیت نہیں فراڈ کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔

3۔ ترجمان پی ٹی ائی:

     ترجمان پی ٹی ائی نے صدر کے موقف کو غیر معمولی قرار دے دیا کہا صدر کے فیصلوں پر سازش اور خفیہ تدبیروں کے ذریعے عمل درامد روکنا غیر ائینی ہے پی پی اور نون لیگ نے صدر سے استیفے کا مطالبہ کر دیا اسحاق ڈار کہتے ہیں صدر دفتر مو ثر طریقے رولز اف بزنس کے مطابق چلانے میں ناکام رہے سرکاری کام فائلز پر چلایا جاتا ہے اور اس پر عمل یقینی بنایا جاتا ہے پیسل کریم کنڈی بولے کیا صدر عارف علوی کو 24 گھنٹے بعد خیال ایا کہ انہوں نے بلوں پر دستخط نہیں کیے۔

4۔ رانا ثناء اللہ: 

   رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کون جھوٹ بول رہا ہے کیا اس کا تعین ٹویٹ سے ہوگا میں نہیں سمجھتا صدر سے پوچھے بغیر اس طرح کا کام کیا گیا ہوگا ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ کہتے ہیں صدر بل سے متفق نہیں تھے تو اعتراض لگا کر واپس کرتے اج بھی چیئرمین پی ٹی ائی سے وفاداری نبھارے ہیں سینٹر مشتاق احمد نے کہا ایک نیا پنڈورا باکس کھل چکا ہے صدر مملکت کو اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی کیا وہ اتنے بے بس تھے انہیں ٹویٹ کرنا پڑا۔

      پیپلز پارٹی نے صدر عارف علوی کی طبی بوائے نے کہا مطالبہ کر دیا نیر بخاری کہتے ہیں عارف علوی کا ٹویٹ ان کی ذہنی صورتحال پر سوالیہ نش ان ہے صدر نے پی ٹی ائی کارکن اور چیئرمین کے ذاتی ملازم کا کردار ادا کیا رضا ربانی نے کہا صدر کے ٹویٹ میں قانون سے زیادہ حقیقت پر مبنی سوالات کو جنم دیا معاملے پر سینٹ کے پورے ایوان کی کمیٹی کو انکاری کرنی چاہیے صدر اور مطالقہ عملے کو سینٹ کے سامنے پیش ہونا چاہیے ائین کے ارٹیکل 50 کے تحت صدر مملکت پارلیمنٹ کا حصہ ہیں صدر کی عائد کردہ الزامات بہت سنگین اور نظام پر دور رسراخ ہیں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کہتے ہیں سپریم کورٹ سموٹو نوٹس لے اور لے کر سچ کا فیصلہ کرے تمام اداروں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے پوری دنیا میں پاکستان کا مذاق بنا ہوا ہے


Post a Comment

0 Comments