1۔ نوازشریف جیل میں:-
.jpeg)
میں نے میری بیوی نے ڈیڑھ ڈیڑھ سو پیشیاں بختی ہیں پھر ہمیں کلین شٹ ملی میں نے سب کچھ اللہ پر چھوڑا ہوا ہے میں سرخرو ہو کر ملک واپس جا رہا ہوں نو مئی کے حملوں سے متعلق جب ان سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم 28واں والے ہیں ہم نو مئی والے ہیں۔
2۔ الیکشن کب ہوں گے؟
الیکشن کی تاریخ سے متعلق جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن اف پاکستان الیکشن کی تاریخ الیکشن کمیشن کی ترجیح ہی میری ترجیح ہوگی یہ کہنا تھا مسلم لیگ نون کے طائف سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا جو اب سے کچھ دیر بعد دبئی ایئرپورٹ سے پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے تقریبا چار سال بعد وہ پاکستان پہنچیں گے۔
3۔ پاکستان خطرے میں:-
چار سال بعد چار سال پہلے ملک چھوڑتے ہوئے اچھی فیلنگ نہیں تھی اج ملک واپسی پر خوش ہوں ہمارا ملک اگے جانے کے بجائے پیچھے چلا گیا لوگ پریشان ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ امید کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے حالات ہم نے خود ہی ٹھیک کرنے ہیں کوئی ہمیں اٹھا کر حالات ٹھیک نہیں کرے گا ہمارا ملک اس نہج پر کیوں ایا اس بارے میں سوچنا ہوگا ہمیں تو اج ترقی کرتے ہوئے ممالک میں ہونا چاہیے تھا ملک اگے جانے کے بجائے پیچھے چلا گیا انہوں نے کہا کہ چار سال کے بعد پاکستان جا رہا ہوں نواز شریف نے کہا بہت ہی اچھا ہوتا کہ اج 2017 کے مقابلے میں حالات بہتر ہوتے دکھ کی بات ہے کہ ملک اگے جانے کے بجائے پیچھے چلا گیا ہے انہوں نے گیم میں اس طرح والے حالات ہیں جو پریشان کن ہیں حالات ہم نے بگاڑے ہیں خود ہی ہم نے ان کو ٹھیک بھی کرنا ہے میاں محمد نواز شریف نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا جو ملک ائی ایم ایف کو بھی خدا حافظ کہہ چکا تھا مسائل کا شکار ہے وہ پاکستان جہاں لوڈ شیڈنگ ختم ہو گئی تھی علاج کی سہولت موجود تھی کیا وہ پاکستان اج نظر اتا ہے نواز شریف نے کہا 2017 میں پاکستان میں روزگار مل رہا تھا
4۔ پاکستان ترقی کیوں نہ کر سکا؟
اجلاس کی سہولیات موجود تھیں نوبت یہاں تک کیوں ائی یہ نہیں انی چاہیے تھی انہوں نے کہا ہم اس قابل ہیں کہ ملک کے مسائل کو حل کر سکے جب ایک صحابی نے ان سے نو مئی کے واقعات سے متعلق سوال کیا تو میاں محمد نواز شریف نے جوابا کہا ہم 28 مئی والے ہیں نو مئی والے نہیں ہیں مسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نواز شریف جو دبئی ایئرپورٹ پہ موجود ہیں بزنس لاونج میں جب وہ پہنچ رہے تھے تو اس دوران نون لیگ کی جو کارکنان جن کی تعداد 100 سٹو کے قریب بتائی جا رہی ہے اور ان کارکنان نے اسی طیارے صاحب پاکستان بھی انا ہے تو اس موقع پر نعرے لگا کر نواز شریف کا استقبال کیا گیا نواز شریف اس وقت بزنس اسلام میں موجود ہیں ایک مختصر میڈیا ٹاک بھی کی انہوں نے صحافیوں سے اور اب سے کچھ دیر بعد تقریبا 10 ساڑھےد بجے ان کا فائو کا ٹائم بتایا جا رہا ہے پاکستانی وقت کے مطابق جب دبئی ایئرپورٹ سے یہ تیارہ اڑے گا اور اسلام اباد ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گا اور اسی طیارے میں سردار ہو کر یہ طیارہ پھر اسلام اباد و ایئرپورٹ سے اوران بھرے گا اور لاہور ایئرپورٹ پہنچے گا۔
5۔ بہت بڑا جلسہ:-
مینار پاکستان پر ایک جلسے جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا ہے اور اسی یعنی اسی جلسہ گاہ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ رات ا مریم نواز شریف اور جو دیگر قائدین ہیں وہ بھی پہنچے تھے جلسہ گاہ میں اور اس موقع پر اتش بازی بھی کی گئی تھی ا اور اس وقت اپ دیکھ رہے ہیں مسلم لیگ نون کی قائد سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جو اس وقت دبئی ایئرپورٹ پر موجود ہیں اور دبئی ایئرپورٹ پر انہوں نے مختصر میڈیا ٹاپ بھی کی ہے اور جب جیو نیوز کے ساتھ ہی نے ان سے گفتگو کی اور ان سے سوال کیا کہ نو مئی کے جو ہم نے ہوئے تھے ایک پارٹی کی جانب سے تو اس کے بارے میں اپ کی کیا رائے ہے تو انہوں نے ایک لائن میں اس کا جواب دیا کہ ہم 28 مئی والے ہیں ہم نو مئی والے نہیں۔
" الیکشن کی تاریخ سے متعلق جب صحافی نے ان سے سوال کیا تو میاں محمد نواز شریف نے جوابا کہا کہ الیکشن کمیشن اف پاکستان الیکشن کی تاریخ دینے کا مجاز ادارہ ہے فیئر الیکشن کمیشن کی ترجیح میری ترجیح ہے"
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اور میری بیٹی نے ڈیڑھ ڈیڑھ سو پیشیاں رکتی ہمیں کلین شٹ ملی میں نے سب کچھ اللہ پر چھوڑا ہوا ہے میں سرخرو ہو کر ملک واپس جا رہا ہوں یہ کہنا تھا میاں محمد نواز شریف کا جو اب سے کچھ دن پہلے میڈیا ٹاکر رہے تھے میاں محمد نواز شریف نے انتخابات سے متعلق کہا کہ بہتر فیصلہ الیکشن کمیشن ہی کر سکتا ہے انتخابات سے متعلق ان کی ترجیح وہی ہے جو الیکشن کمیشن ٹھیک سمجھتا ہے میاں محمد نواز شریف نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ 2017 میں پاکستان میں روزگار مل رہا تھا علاج کی سہولیات موجود تھیں انہوں نے کہا کہ میری بیٹی کو بھی بلاخرین شٹ ملی اور وہ ملنے ہی چاہیے تھی مریم نواز کے پاس کوئی سرکاری افس نہیں تھا نہ کوئی عہدہ تھا اس کو تو ویسے ہی دھڑ لیا گیا تھا نواز شریف نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا سب کچھ اللہ پر چھوڑتا ہوں اج میں اللہ کے کرم سے سرخرو ہو کر پاکستان جا رہا ہوں نواز شریف نے کہا کہ ہم نو مئی والے ہیں 28 مئی والے نہیں ہیں میاں محمد نواز شریف جاب سے کچھ دیر پہلے میڈیا ٹاک کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ چار سال بعد پاکستان جا رہا ہوں بہت ہی اچھا ہوتا کہ اج 2017 کے مقابلے میں حالات بہتر ہوتے۔
6۔ میاں محمد نوازشریف دکھ میں:-
کہا کہ دکھ کی بات ہے کہ ملک اگے جانے کے بجائے پیچھے چلا گیا پاکستان میں استراب والے حالات ہیں جو پریشان کن ہیں نواز شریف نے کہا کہ حالات ہم نے بگاڑے ہیں خود ہی ٹھیک بھی کرنے ہیں کوئی ہمیں اٹھا کر حالات ٹھیک نہیں کرے گا جو ملک ائ ایم ایف کو بھی خدا حافظ کہہ چکا تھا مسائل کا شکار ہے میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وہ پاکستان جہاں ہو گئی تھی علاج کی سہولت موجود تھی کیا وہ پاکستان اج نظر اتا ہے 2017 میں پاکستان میں روزگار مل رہا تھا علاج کے مفت سہولت دستیاب تھی نوبت یہاں تک کیوں ائی نہیں انی چاہیے تھی میاں محمد نواز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس قابل ہیں کہ ملک کے مسائل حل کرتے ہیں میاں محمد نواز شریف سب سے کچھ دیر پہلے جب دبئی ایئرپورٹ پہنچے تھے۔

.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
0 Comments